ضابطۂ فوجداری

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - قانونِ فوجداری، جرم و سزا سے متعلق قانون نیز اس قانون پر مشتعمل کتاب۔ "قانون عام کی تقسیم . کی جاسکتی ہے . (٣) ضابطہ فوجداری۔"      ( ١٩٣٨ء، علم اصول قانون، ١٧٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'ضابطہ' کے آخر پر ہمزہ اضافت لگانے کے بعد عربی سے مشتق اسم 'فوج' کے ساتھ فارسی مصدر 'داشتن' سے فعل امر 'دار' کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے 'فوجداری' مرکب 'ضابطہ فوجداری' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٩٥ء کو "ایکٹ نمبر ١٠، ١٨٨٢ء" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - قانونِ فوجداری، جرم و سزا سے متعلق قانون نیز اس قانون پر مشتعمل کتاب۔ "قانون عام کی تقسیم . کی جاسکتی ہے . (٣) ضابطہ فوجداری۔"      ( ١٩٣٨ء، علم اصول قانون، ١٧٣ )

جنس: مذکر